بنگلورو 25؍فروری (ایس او نیوز) ملک بھر میں بحث و تشویش کا سبب بننے والے دانشور اور صحافی گوری لنکیش قتل کے سلسلے میں پولیس کو بڑی کامیابی ملنے کی خبریں آرہی ہیں۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ منڈیا ضلع کڈلورسے تعلق رکھنے والا ہندو جاگرن ویدیکے کاایک لیڈر کے ٹی نوین کمارعرف کوٹّے منجا غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار ہواہے جس سے تفتیش کے دوران گوری لنکیش قتل کے سلسلے میں بہت ہی اہم سراغ پولیس کو ملے ہیں اور اسی بنیاد پر بنگلورو پولیس کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے منگلورو سے مزید تین افراد کو اپنی حراست میں لیا ہے اور ان سے کڑی تفتیش کی جارہی ہے۔
پستول کے ساتھ گرفتاری:کہاجاتا ہے کہ پولیس کو مصدقہ اطلاع ملی تھی کہ نوین 0.32بور کی دیسی پستول کے ساتھ 18فروری کو بنگلورو کے میجسٹک علاقے میں دیکھا گیا ہے۔سٹی کرائم برانچ کے افسران نے فوری طور پر متعلقہ مقام پر چھاپہ مارتے ہوئے نوین کو پستول اور 5پانچ زندہ گولیوں کے ساتھ گرفتار کرتے ہوئے اپارپیٹ پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کیا گیا۔غیر قانونی طور پر پستول رکھنے والے نوین سے پوچھ تاچھ کے لئے ایس آئی ٹی نے اسے اپنی حراست میں لیا اور اس کے بیان کی روشنی میں منگلورو سے تین نوجوانوں کو حراست میں لے کر مزید تفتیش کے لئے بنگلورو لایا گیاہے جس سے گوری لنکیش قتل کے راز پر سے پردہ اٹھتا دکھائی دے رہا ہے۔
گوری کے قاتلوں سے رابطہ:معتبرذرائع سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق نوین کوعدالت میں پیش کرنے کے بعد مزید تحقیق کے لئے پولیس کسٹڈی میں لیا گیا ہے، کیونکہ اب تک کی تفتیش سے یہ معلوم ہواہے کہ حالانکہ نوین براہ راست گوری لنکیش کے قتل میں ملوث نہیں ہے لیکن قتل کے منصوبے اورقاتلوں کے تعلق سے اس کے پاس پوری معلومات ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ نوین نے منگلورومیں سنگھ پریوار کے ایک نوجوان سے رابطہ قائم کیاتھا۔ اس نوجوان نے شمالی ہندوستان کے دو شارپ شوٹرز سے نوین کی ملاقات کروائی۔ان دو کرایے کے قاتلوں (شارپ شوٹرس) کو نوین نے کنکاپورا اور کولیگل کے درمیان ایک فارم پر قیام کرنے کے لئے ٹھکانہ فراہم کیا۔ اس کے علاوہ گوری لنکیش کے معمولات کے سلسلے میں تفصیل جمع کرنے اورگوری کے گھر اور دفتر کے اطراف گھوم پھر کران علاقوں کے پوری طرح جانکاری حاصل کرنے میں ان کرایے کے قاتلوں کو تعاون دینے کے ساتھ ہی قتل کی کارروائی انجام دینے کے بعد قاتلوں کو فرار ہونے میں بھی مدد کی۔
قتل کے بعد مٹھائی کی تقسیم: نوین کے بارے میں ایس آئی ٹی کو یہ معلومات بھی ملی ہیں کہ گوری کاقتل جب انجام دیا جارہاتھا تو نوین بنگلورو میں موجود نہیں تھا،لیکن قتل کی کارروائی ہونے کے فوری بعداس نے منڈیا میں اپنے دوستوں میں مٹھائی تقسیم کی تھی۔اس تعلق سے تحقیقاتی ٹیم مکمل تفصیل حاصل کرنے میں جُٹ گئی ہے۔
پولیس کمشنر کو علم نہیں:گوری لنکیش قتل کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی کے ذریعے منگلوروسے تین مشتبہ نوجوانوں کو بنگلورو لے جانے کا معاملہ یوں تو میڈیا میں چھایاہوا ہے لیکن اس تعلق سے منگلورو پولیس کمشنر ٹی آر سریش نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
وزیر داخلہ نے گرفتاری کی تردید کی:اسی طرح وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی نے بھی اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران گوری لنکیش کے قاتلوں کو گرفتار کیے جانے کی بات سے انکار کیا اورکہا کہ’’ تحقیقات صحیح رخ پر تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور اس تعلق سے جو بھی کارروائی ہوئی ہے اس سلسلے میں اسمبلی میں میں نے تمام باتیں رکھ دی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ہی مجرموں کو پکڑ لیں گے۔ البتہ ایم ایم کلبرگی کے قتل کے سلسلے میں ہمیں اب تک کوئی بھی سراغ ہاتھ نہیں لگا ہے۔‘‘
ایچ جے وی نے نوین سے پلّہ جھاڑا:دوسری طرف ہند وجاگرن ویدیکے نے پولیس کے گرفت میں آئے نوین کمارکے تعلق سے کہا ہے کہ وہ ایچ جے وی کا کارکن نہیں ہے۔اپنے بیان میں ایچ جے وی کے جنوبی ژون کے جنرل سکریٹری کے ٹی الہاس نے کہا ہے کہ: ’’...نوین کمار سے ہندوجاگرن ویدیکے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ کچھ لوگ بدنیتی کے ساتھ اس طرح کی خبر پھیلارہے ہیں اور اس کا تعلق ہندو جاگرن ویدیکے سے جوڑ رہے ہیں، جس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ایچ جے وی کو بدنام کرنے کی اس کوشش کی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘‘